اعلٰی حضرت اور کنز الا یمان

اعلٰی حضرت اور کنز الا یمان

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تفسیر ی مہارت کا ایک شاہکار آپ کا ترجمہ قرآن ’’کنزالایمان ‘‘ بھی ہے جس کے بارے میں محدثِ اعظم ہند سید محمد محدث کچھوچھوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :
’’علم ِقرآن کا اندازہ صر ف اعلیٰ حضرت کے اس اردو ترجمہ سے کیجئے جو اکثر گھروں میں موجود ہے اور جس کی مثال ِسابق نہ عربی میں ہے، نہ فارسی میں ہے ، نہ اردو زبان میں ہے ، اور جس کا ایک ایک لفظ اپنے مقام پر ایسا ہے کہ دوسرا لفظ اُس جگہ لایا نہیں جا سکتا جو بظاہر محض ترجمہ ہے مگر در حقیقت وہ قرآن کی صحیح تفسیر اور اردو زبان میں قرآن(کی روح)ہے (جامع الاحادیث جلد 8از مولانا حنیف خان رضوی مطبوعہ مکتبہ شبیر برادرز لاہور ص 101)

پھر یہ ترجمہ کس طرح معرض ِ وجو د میں آیا، ایسے نہیں جس طرح دیگر مترجمین عام طور سے گوشہ تنہائی میں بیٹھ کر متعلقہ کتابوں کا انبار لگا کر اور ترجمہ تفسیر کی کتابیں دیکھ دیکھ کر معانی کا تعین کرتے ہیں بلکہ اعلیٰ حضرت کی مصروف ترین زندگی عام مترجمین کی طرح ان تمام تیاریوں اور کامل اہتمامات کی متحمل کہا ں تھی ۔

’’سوانح امام احمد رضا ‘‘ میں مولانا بد ر الدین قادری صاحب تحریر فرماتے ہیں :
’’صدر الشریعہ‘‘ حضرت علامہ مولانا محمد امجد علی اعظمی نے قرآن مجید کے صحیح ترجمہ کی ضرورت پیش کرتے ہوئے امام احمد رضا سے ترجمہ کر دینے کی گزارش کی ۔ آپ نے وعدہ فرمالیا لیکن دوسرے مشاغل ِ د ینیہ کثیرہ کے ہجوم کے باعث تاخیر ہوتی رہی ،جب حضرت ’’صدر الشریعہ‘‘کی جانب سے اصرار بڑھا تو اعلیٰ حضرت نے فرمایا: چونکہ ترجمہ کے لیے میرے پاس مستقل وقت نہیں ہے اس لئے آپ رات میں سوتے وقت یا دن میں قیلولہ کے وقت آجایا کریں ۔چنانچہ حضرتِ ’’صدر الشریعہ‘‘ ایک دن کاغذ قلم اور دوات لے کر اعلیٰ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوگئے اور یہ دینی کام بھی شروع ہو گیا

آپ ربانی طور پر آیات کا ترجمہ بولتے اور صدر الشریعہ لکھتے رہتے:
ترجمہ کا طریقہ یہ تھا کہ اعلیٰ حضرت زبانی طور پر آیات ِکریمہ کا ترجمہ بولتے جاتے اور’’ صدر الشریعہ‘‘ اس کو لکھتے رہتے ،لیکن یہ ترجمہ اس طرح پر نہیں تھا کہ آپ پہلے کتب ِتفسیر و لغت کو ملاحظہ فرماتے ،بعدہٗ آیت کے معنی کو سوچتے پھر ترجمہ بیان کرتے، بلکہ آپ قرآن مجید کا فی البدیہہ برجستہ ترجمہ زبانی طور پر اس طرح بولتے جاتے جیسے کوئی پختہ یادداشت کا حافظ اپنی قوتِ حافظہ پر بغیر زور ڈالے قرآن شریف روانگی سے پڑھتا جاتا ہے، پھر جب حضرتِ’’ صدر الشریعہ‘‘ اور دیگر علمائے حاضر ین اعلیٰ حضرت کے ترجمے کا کتب ِتفاسیر سے تقابل کرتے تو یہ دیکھ کر حیران رہ جاتے کہ آ پ کا یہ برجستہ فی البدیہہ ترجمہ تفاسیر ِمعتبرہ کے بالکل مطابق ہے۔

الغرض اِسی قلیل وقت میں ترجمہ کا کام ہوتا رہاپھر وہ مبارک ساعت بھی آگئی کہ حضرتِ ’’صدر الشریعہ‘‘ نے اعلیٰ حضرت سے قرآن مجید کا مکمل ترجمہ کر والیا اور آپ کی کوششِ بلیغ کی بدولت دنیائے سنیت کو’’ کنز الایمان ‘‘کی دولت ِعظمیٰ نصیب ہوئی ۔ (انوارِ رضا مطبوعہ ضیاء القرآن لاہور ص 81-82)

کاش وہ تفسیر لکھی جاتی

’’صدر الشریعہ‘‘ مولانا محمد امجد علی اعظمی صاحب فرماتے ہیں :
ترجمہ کے بعد میں نے چاہا تھا کہ اعلیٰ حضرت اس پر نظر ثانی فرمالیں اور جا بجا فوائد تحریر کر دیں۔ چنانچہ بہت اصر ار کے بعد یہ کام شروع کیا گیا، دو تین روز تک کچھ لکھا گیا، مگر جس انداز سے لکھوانا شرو ع کیا اس سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ یہ قرآن پاک کی بہت بڑی تفسیر ہو گی ۔کم از کم دس بارہ جلد وں میں پوری ہو گی۔

اس وقت خیال پیدا ہو اکہ اتنی مبسوط تحریر کی کیا حاجت ؟ ہر صفحہ میں کچھ تھوڑی تھوڑی باتیں ہونی چاہئیں جو حاشیہ پر درج کر دی جائیں لہٰذا یہ تحریر جو ہو رہی تھی بند کر دی گئی اور دوسری(تحریر) کی نوبت نہ آئی ۔ کاش وہ مبسوط تحریر جو اعلیٰ حضرت لکھوا رہے تھے اگر پوری نہیں تو دو ایک پارے تک ہی ہوتی،جب بھی شائقین ِعلم کے لیے وہ جواہر پارے بہت مفید اور کار آمد ہوتے ۔ (سیر ت صدر الشریعہ از مولانا عطا ء الرحمن قادری مطبوعہ مکتبہ اعلیٰ حضرت لاہور ص 175)

مولانا محمدحنیف خان رضوی صاحب نے اعلیٰ حضرت کی کتب میں سے انتخاب کر کے چھ سو آیات پر مشتمل تفسیر ی مباحث جمع کر کے شائع کر دئیے ہیں جو کہ بڑے سائز کی تین جلدوں(جامع الاحادیث جلد 8-9-10) پر محیط ہیں،جن کو پڑھ کر منصف مزاج حضرات اس بات کا ضرور اعتراف کریں گے کہ جو شخصیت ان آیات کی اس طرح محققانہ انداز میں تفسیر کرسکتی ہے وہ بلاشبہ پور ے قرآن کی تفسیر پر قادرتھی اور تمام مضامینِ قرآن اُس کے پیش نظر تھے ۔